اگلا چیئرمین سینیٹ کس جماعت سے ہو گا


تحریر: شبیراحمد واہگرہ

چیئرمین سینیٹ کے لئے دلچسپ صورتحال ہے

مسلم لیگ ن کی متوقع سیٹیں سینیٹ الیکشن کے بعد 33 اور اگر بلوچستان سے ایک یا دو سیٹیں لے لیتے ہیں تو 34 یا 35 ہو سکتی ہیں

جبکہ پیپلز پارٹی اگر سندھ سے 9 یا 10 سیٹیں لیتی ہے تو انکے 17 یا 18 ارکان سینیٹ ہونگے

جبکہ پی ٹی آئی کی کے پی کے سے 6سیٹیں پکی ہیںجس سےانکے سینیٹرز کی کل تعداد 12 ہو جائے گی جبکہ مختلف جماعتوں سے اتحاد کی شکل میں 7 بھی جیت سکتے ہیں اس صورت میں انکی سینیٹ میں 13 سیٹیں ہو جائیں گی

محمود اچکزئی کی پختون خواہ ملی عوامی پارٹی اور ڈاکٹر مالک کی نیشنل پارٹی امید ہے بلوچستان سے 3,3 سیٹیں لیں گی انکی متوقع تعداد سینیٹ الیکشن کے بعد 6,6 ہو جائے گی کیونکہ انکے تین تین سینیٹرز پہلے موجود ہیں

جبکہ جے یو آئی ف بھی بلوچستان سے ایک یا دو سیٹیں جیتنے کی امیدوار ہے تو انکے بھی چار سینیٹر ہو جاینگے

اسطرح سے پی ایم ایل ن اور اس کے اتحادی اگر اپنا اتحاد برقرار رکھ پاتے ہیں تو انکے پاس چیئرمین سینیٹ کیلئے

33+6+6+4

کے حساب سے 49 سیٹیں بنتی ہیں اس لیئے سادہ اکثریت کےلئے انہیں 104 کے سینیٹ میں 53 ووٹ چاہیئے جس کے لئے انہیں صرف چار سینیٹرز کو اور ملانا ہو گا جو زیادہ مشکل عمل نہین ہو گا جبکہ مقابلے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کو مشترکہ امیدوار پورے اتحاد سے لانا ہو گا جو کہ اتنا آسان کام نہیں خاص کر پی پی پی اور پی ٹی آئی کا اکٹھے ہونا کافی مشکل کام ہے

اسلئے چیئرمین سینیٹ کے لئے مسلم لیگ نواز کافی مظبوط پوزیشن رکھتی ہے